انمول پنکی کی ہنگامہ آرائی کے بعد مقدمے کی سماعت عدالت کے بجائے جیل میں کرانے کا فیصلہ
منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو سٹی کورٹ میں پیش کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، عدالت نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ملزمہ کی سماعت جیل میں قائم عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کو 3 مختلف مقدمات میں سٹی کورٹ میں پیش کیا جانا تھا، تاہم اب ملزمہ کو سٹی کورٹ کے بجائے سینٹرل جیل میں قائم عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس حوالے سے عدالت نے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کی درخواست منظور کرتے ہوئے باقاعدہ حکم جاری کردیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق بغدادی پولیس ملزمہ پنکی کو سخت سیکیورٹی میں سینٹرل جیل منتقل کرے گی، جہاں جیل کے اندر قائم خصوصی عدالت میں مقدمات کی سماعت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو درپیش ممکنہ سیکیورٹی خطرات اور غیر معمولی صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق عدالت میں پیشی کے دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ہفتے کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں منشیات کیس کی نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی پیشی کے موقع پر اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابا دیکھا گیا تھا جب ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے الزامات لگائے تھے، جبکہ تفتیشی افسر نے اسے انتہائی شاطر قرار دیتے ہوئے نیٹ ورک کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھ دیں تھیں۔
پولیس نے میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے ملزمہ کو ججز گیٹ کے راستے اندر پہنچایا تھا۔ عدالت میں آتے ہی ملزمہ نے میڈیا کو دیکھ کر چیخ و پکار شروع کر دی تھی اور کہا تھا کہ میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور بیس دن سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔
ملزمہ انمول نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یہ سب کچھ ان کا سابقہ شوہر کروا رہا ہے۔
ملزمہ نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی تھی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے، پھر پندرہ دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پنکی کے مطابق مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔
ڈرگس کوئین نے عدالت کے باہر یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو۔
ملزمہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے میرے گھر میں پہلے سے منشیات پلان کی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو آپ نے مسکرا کر دروازہ کھولنا ہے۔
پنکی کا کہنا تھا کہ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر بتائے گئے نام نہ لیے اور سب کچھ قبول نہ کیا تو میری فیملی کو اٹھا لیں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔
اس دوران خاتون پولیس اہلکار نے ملزمہ کا منہ بند کرنے اور اسے چپ کروانے کی کوشش کی تھی جس پر ان کی ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔
دوسری طرف تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور اب پکڑے جانے پر بیانات بدل رہی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ پندرہ سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے اور ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی پولیس نے بتایا تھا منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی نامی اس خاتون کو ضلع وسطی کی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا تھا کہ ملزمہ پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھیں اور شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔